کورونا وائرس،مریضوں اور اموات میں اضافہ ،دنیا کی حالت غیر، پاکستانی حکام کی بھارتی طیاروں کی رہنمائی

کورونا وائرس،مریضوں اور اموات میں اضافہ ،دنیا کی حالت غیر، پاکستانی حکام کی بھارتی طیاروں کی رہنمائی


کورونا وائرس،مریضوں اور اموات میں اضافہ ،دنیا کی حالت غیر، پاکستانی حکام کی …

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مزید 172 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ ایک شخص وائرس کے باعث جان کی بازی ہار گیا ہے جس کے بعد جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 45 ہو گئی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس کے کسیز کی مجموعی تعداد 2880 ہو گئی ہے تاہم اچھی خبر یہ ہے کہ اب تک 170 افراد صحت یاب ہونے کے بعد گھروں کو لوٹ گئے ہیں جبکہ سینکڑوں تیزی کے ساتھ صحت کی جانب گامز ن ہے جو کہ جلد ہی ڈسجارچ کر دیئے جائیں گے ۔

کورونا وائرس کے باعث اب تک 45 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 18 افراد کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے جس کا مختلف ہسپتالوں میں علاج جاری ہے اور ڈاکٹر قیمتی انسانی جانوں کو محفوظ بنانے کیلئے سر توڑ کو ششیں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔

حکومت کی جانب سے اس وقت پورے پاکستان میں لاک ڈاﺅن جاری ہے اور شہریوں سے گھروں میں رہنے کی اپیل کی جارہی ہے جبکہ اس پر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے سختی سے عملدرآمد کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔

کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ پنجا ہے جہاں اب تک 1163کیسز سامنے آ چکے ہیں جبکہ 12 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں ، 25 افراد صحت یاب ہونے کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج ہوئے ہیں ۔

سندھ میں اس وقت 864 کورونا وائرس کے مریض زیر علاج ہیں جبکہ 15 افراد وائرس کے باعث انتقال کر گئے ہیں تاہم 85افراد صحت یاب ہونے کے بعد گھروں کو لوٹ گئے ہیں ۔

خیبر پختون خواہ میں اب تک 372 افراد میں وائر س کی تشخیص ہوئی ہے ، 14 انتقال کر گئے ہیں جبکہ 30 افر د صحت یاب ہوئے ہیں ، کئی افراد تیزی سے ٹھیک بھی ہو رہے ہیں جنہیں جلد ہی واپس گھروں کو لوٹا دیا جائے گا ۔

گلگت بلتستان میں اب تک مجموعی طور پر 208 کیسز سامنے آئے ہیں ، وائرس کے باعث تین افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں تاہم 9 افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں ۔

بلوچستان میں 185 افراد وائرس کے باعث بیماری سے لڑ رہے ہیں ،صوبے میں 17 افراد ٹھیک ہوئے ہیں جبکہ ایک شخص حالت زیادہ خراب ہونے کے باعث انتقال کر گیا جسے ڈاکٹروں کی جانب سے بچانے کی بھر پور کوشش کی گئی ۔

اسلام آباد میں 78 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے تین صحت یاب ہو گئے ہیں ۔آزاد کشمیر میں حالات کافی بہتر ہیں جہاں صرف اب تک کورونا کے باعث صرف 12 افراد ہی بیمار ہوئے جبکہ ایک شخص ٹھیک بھی ہو گیاہے ۔

دنیا کی صورتحال

کورونا وائرس نے اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور اب تک متاثرہ افراد کی تعداد 12 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ 64 ہزار 774 مریض وائرس کے باعث دم توڑ گئے ہیں تاہم 2 لاکھ 46 ہزار 893 افراد صحت یاب ہونے کے بعد گھروں کو واپس چلے گئے ہیں ۔

وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک امریکہ بن چکا ہے جہاں 3 لاکھ 12 ہزار سے زائد افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے اور اب تک 8 ہزار 499 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں تاہم 14 ہزار 997 افراد ٹھیک بھی ہوئے ہیں ۔

دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ متاہ ملک سپین ہے جہاںوائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 26 ہزار ہو گئی ہے ، 11 ہزار 947 افراد وائرس کے باعث زندگی کی بازی ہار گئے ہیں ، 34 ہزار سے زائد صحت یاب بھی ہوئے ہیں ۔کورونا وائرس کے باعث سب سے زیادہ اموات اٹلی میں ہوئیں ہیں جہاں تعداد 15 ہزار 362 پر جا پہنچی ہے اور اب تک ایک لاکھ 24 ہزار سے زائد افراد میں کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہو چکی ہیں جن کا اعلاج جاری ہے ۔

پاکستان کا احسن اقدام، بھارتی طیاروں کی رہنمائی

پاکستان کی جانب سے انتہائی بردباری اور فراغ دلی کا مظاہرہ کیا ،امدادی سامان لے جانے والے 2 بھارتی طیاروں کی رہنمائی کی۔ذرائع سی اے اے کے مطابق بھارتی طیارے کورونا متاثرین کے لیے امدادی سامان جرمنی لے جارہے تھے، بھارتی طیارے کراچی ریجن کی فضائی حدود سے گزر رہے تھے، ایک بھارتی طیارہ ممبئی سے اور دوسرا نئی دہلی سے فرینکفرٹ جارہا تھا، سی اے اے کے ایئر ٹریفک کنٹرولر نے بھارتی طیاروں کو ڈائریکٹ روٹ دیا۔

عام حالات میں کسی طیارے کو براہ راست روٹ فراہم نہیں کیے جاتا، بوئنگ 777 اور 787 طیارے کا ایرانی ایئرٹریفک کنٹرولر سے رابطہ نہیں ہورہا تھا، سی اے اے کے ایئرٹریفک کنٹرولر نے بھارتی طیاروں کو ایک بار پھر مدد فراہم کی، پاکستانی اے ٹی سی نے ایران کے اے ٹی سی سے لینڈ لائن پر رابطہ کیا۔

کورونا وائرس سے متعلق چینی ماہرین کی رائے

پاکستان کا دورہ کرنے والے چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی میں بھی کورونا وائرس کے پھیلنے کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، کم ازکم 28دن کےلئے لاک ڈاون پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے جس کے بعد محتاط انداز میں مرحلہ وار پابندیاں نرم کی جانی چاہئیں۔کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکر بیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھری ہوئی پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اور ہر ایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اور وہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

مزید : اہم خبریں /قومی



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے