کورونا وائرس سے بچنے کے لیے ہینڈ سینیٹائزر استعمال کرنے کا درست طریقہ جانئے

کورونا وائرس سے بچنے کے لیے ہینڈ سینیٹائزر استعمال کرنے کا درست طریقہ جانئے


کورونا وائرس سے بچنے کے لیے ہینڈ سینیٹائزر استعمال کرنے کا درست طریقہ جانئے

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس سے بچاﺅ کے لیے ماہرین تاکید کر رہے ہیں کہ دن میں کئی کئی بار اچھی طرح ہاتھ دھوئیں کیونکہ یہ وائرس سے بچنے کا سب سے موثر طریقہ ہے۔ لوگ ماہرین کے اس مفید مشورے پر عمل کرنے کے لیے ’سینیٹائزنگ ہینڈ جیل‘ (Sanitising Hand Gels)کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ انہیں اپنے ساتھ کہیں بھی رکھا جا سکتا ہے مگر اب ایک برطانوی ماہر نے اس حوالے سے متنبہ کر دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق برطانوی شہر لیڈز کے معروف مائیکروبائیولوجسٹ پروفیسر مارک ولکوکس کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں موجود جیلز ہاتھوں سے وائرس ختم کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں، کیونکہ یہ وائرس کو ختم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ ان کا استعمال صرف اس صورت میں کیا جانا چاہیے جب آپ کے پاس پانی اور صابن نہ ہو۔پروفیسر مارک نے کہا کہ اکثر لوگ جیلز اور صابن سے ہاتھ دھوتے ہوئے ہوئے کلائیوں کو نظرانداز کرتے ہیں۔ وائرس سے بچنے کے لیے ہاتھ دھونے کا یہ غلط طریقہ ہے۔ وائرس سے بچنے کے لیے ہاتھوں کے ساتھ ساتھ کلائیوں کو بھی دھونا چاہیے اور اگر آپ جیل سے سینیٹائز کر رہے ہیں تو کلائیوں پر بھی جیل لگائیں۔

پروفیسر مارک کا کہنا تھا کہ ان سینیٹائزر جیلز میں 70فیصد الکوحل ہونی چاہیے، اسی صورت میں یہ وائرس کو ختم کر سکتی ہیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ اکثرجیلز میں الکوحل کی مقدار اس سے کہیں کم ہوتی ہے۔ چنانچہ یہ وائرس کو ختم نہیں کر پاتیں۔ یہ جیلز صرف اسی صورت میں مفید قرار دی جا سکتی ہیں جب آپ پبلک ٹرانسپورٹ یا کسی اور عوامی جگہ پر ہوں اور آپ کو فوری ہاتھ صاف کرنے کی ضرورت ہو۔ اس صورت میں بھی صرف ایسی جیلز استعمال کریں جن میں الکوحل زیادہ مقدار میں پائی جاتی ہو۔ باقی جیلز کورونا وائرس کے حوالے سے بیکار ہیں۔ جیلز کے پیکٹ پر اجزاءمیں ایتھنول لکھا ہوتا ہے، جو الکوحل ہی کا دوسرا نام ہے۔ جب آپ جیل خریدیں تو پیکٹ پر لازمی دیکھیں کہ اس میں ایتھنول کتنے فیصد ہے اورایسی جیل لیں جس میں اس کی مقدار کم از کم 70فیصد ہو۔

مزید : تعلیم و صحت



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے