”کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کے پھیپھڑے مستقل طور پر متاثر ہو جاتے ہیں اور یہ وائرس پھیپھڑوں میں۔۔۔“ چینی محققین نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا

”کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کے پھیپھڑے مستقل طور پر متاثر ہو جاتے ہیں اور یہ وائرس پھیپھڑوں میں۔۔۔“ چینی محققین نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا


”کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کے پھیپھڑے مستقل طور پر متاثر ہو …

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) کورونا وائرس سے سے لگنے والی بیماری سے صحت یاب ہو جانے والے مریضوں پر تحقیق کرنے والے چینی محققین نے دیکھا ہے کہ کئی متاثرین کے پھیپھڑوں میں دودھیا رنگ کی ایک ایسی بہت پتلی سی جھلی بن جاتی ہے، جو انسانی نظام تنفس کے اس اہم ترین حصے کو مستقل بنیادوں پر نقصان پہنچاتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں اب تک تقریباً سوا دو لاکھ انسان بیمار ہو چکے ہیں، جن میں سے 10 ہزار سے زائد کا انتقال بھی ہو چکا ہے لیکن یہ بات اپنی جگہ حوصلہ افزاءہے کہ مختلف ممالک میں اب تک 80 ہزار سے زائد مریض دوبارہ صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

اس وائرس کے مریضوں کو قرنطینہ کے عرصے کے دوران جتنی بھی ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی تکلیف کا سامنا کرنا پڑے، ایک بار صحت یاب ہو جانے کے بعد وہ مطمئن ہوتے ہیں کہ اب ان میں اس جرثومے کے خلاف جسمانی مدافعت پیدا ہو گئی ہے۔ لیکن یہ بات بھی زیادہ سے زیادہ صرف جزوی طور پر ہی درست قرار دی جا سکتی ہے۔

اس وائرس کے صحت یاب ہو جانے والے مریضوں کے پھیپھڑوں کو دیرپا بنیادوں پر نقصان پہنچتا ہے، یہ بات طبی تحقیق کرنے والے ماہرین کے علم میں آ گئی ہے لیکن کیا ایسا صرف کئی مریضوں میں انفرادی طور پر ہی دیکھنے میں آتا ہے یا ہر مریض کو ایسے طویل المدتی طبی نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس امر کا تعین آئندہ مہینوں کے دوران کی جانے والی ریسرچ سے ہی ہو سکے گا۔

کورونا وائرس کی نئی قسم انسانی نظام تنفس کے زیریں حصوں کو زیادہ متاثر کرتی ہے، یہ بات یوں بھی ثابت ہو جاتی ہے کہ کورونا کے مریضوں کو ناک کے نتھنوں اور گلے میں کسی غیر معمولی طبی شکایت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اس کے مقابلے میں انہیں جو خشک کھانسی آتی ہے، سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے اور بات پھیپھڑوں کی سوزش تک بھی پہنچ سکتی ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ یہ نیا کورونا وائرس انسانی جسم میں سانس لینے کے نظام کے سب سے اندرونی حصے پر زیادہ شدید حملہ کرتا ہے۔

ہانگ کانگ میں ڈاکٹروں نے کورونا وائرس کے صحت یاب ہو جانے والے کئی مریضوں کا تفصیلی طبی مشاہدہ کیا، تو یہ بات ثابت ہو گئی کہ ان میں کئی افراد کو بہت جلد سانس پھول جانے اور پھیپھڑوں کی معمول کی کارکردگی میں کمی کے مسئلے کا سامنا تھا۔ ایسے سابقہ مریضوں کی شرح اگرچہ بہت زیادہ نہیں ہے، تاہم ماہرین ان میں نظر آنے والے ایسے دیرپا اثرات کو نظر انداز کرنے پر آمادہ بھی نظر نہیں آتے۔

ہانگ کانگ کے پرنسس مارگریٹ ہسپتال کے عفونتی بیماریوں کے علاج کے مرکز کے میڈیکل ڈائریکٹر اوئن سانگ تاکیِن کہتے ہیں، ”کئی زیر مشاہدہ مریضوں یا سابقہ مریضوں میں پھیپھڑوں کی معمول کی کارکردگی میں 20 سے 30 فیصد تک کمی آ چکی تھی، اگر وہ ذرا سا بھی تیز چلنے کی کوشش کریں، تو ان کی سانس پھولنے لگتی ہے۔“

ڈاکٹر تاکیِن کہتے ہیں کہ ”ہم نے جب ان افراد کی کمپیوٹر ٹوموگرافی کی، تو دیکھا کہ ان میں سے کئی افراد کے پھیپھڑوں میں ایک ایسی بہت باریک دودھیا سی جھلی موجود تھی، جو دیکھنے میں دھند جیسی نظر آتی تھی اور جس سے پھیپھڑوں کو نقصان پہنچتا ہے۔“

ہانگ کانگ میں ریسرچرز اب جس نتیجے پر پہنچے ہیں، اس سے ان نتائج کی بھی تصدیق ہو گئی ہے، جن تک چینی شہر ووہان میں طبی ماہرین گزشتہ ماہ فروری میں پہنچے تھے۔ تب ووہان یونیورسٹی ہسپتال میں 140 کے قریب مریضوں کے پھیپھڑے سکین کئے گئے تھے اور ان سب میں اسی طرح کی پتلی سی دودھیا جھلی دیکھنے میں آئی تھی۔

کورونا وائرس سے صحت یاب ہو جانے والے مریضوں کے آئندہ مہینوں میں کئے جانے والے طبی مشاہدوں سے یہ پتا چلا لینے کی امید کی جا رہی ہے کہ آیا نیا کورونا وائرس پھیپھڑوں میں فائبروسس کی وجہ بنتا ہے۔ پھیپڑوں کے فائبروسس کا کوئی علاج اب تک اس لئے دریافت نہیں ہو سکا کہ اس عمل کے دوران جو بہت چھوٹی چھوٹی گلٹیاں پھیپھڑوں کے عضلات میں بن جاتی ہیں، وہ ختم نہیں ہوتیں۔

فائبروسس ایک ایسا مرض ہے، جس میں مریض کے پھیپھڑوں کو ایک عضو کے طور پر شکل دینے والے عضلات میں سوزش پیدا ہو جاتی ہے۔ اس وجہ سے آکسیجن کی نقل و حمل کرنے والی خون کی شریانیں متاثر ہوتی ہیں۔ یوں ان شریانوں کی آکسیجن جذب کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے اور اسی لیے پھیپڑوں کی مجموعی کارکردگی بھی کم ہو جاتی ہے۔ ایسے منفی اثرات زیادہ ہوں تو پھیپھڑوں کیساتھ ساتھ متاثرہ فرد کی جسمانی کارکردگی بھی اس حد تک کم ہو جاتی ہے کہ اس کیلئے روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے کام کرنا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /تعلیم و صحت



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے