کورونا وائرس: لاک ڈاؤن کرکے گھروں میں رہنا بچاؤ کے لیے اچھی اسٹرٹیجی نہیں، سائنسدانوں نے خطرے کی گھنٹی بجادی

کورونا وائرس


چین کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے 6 فٹ سماجی فاصلہ نہیں بلکہ 13 فٹ سوشل ڈسٹنسنگ رکھنا ضروری ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق چین کے سائنسدانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے 6 فٹ سماجی فاصلہ کم ہے اسے بڑھا کر 13 فٹ کیا جائے اور لوگوں کو لاک ڈاؤن کرکے گھروں میں رکھنا کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اچھی اسٹرٹیجی نہیں۔

سائنسدانوں نے انکشاف کیا کہ ایروسل ٹرانسمیشن 13 فٹ تک اوپر کی طرف متمرکز ہے، وائرس دروازوں کے ہینڈلز اور کمپیوٹر ماؤس جیسی سطحوں سے بھی لوگوں کو متاثر کرسکتا ہے۔

چینی سائنس دانوں نے ووہان شہر میں ہوشینشن اسپتال میں ایک انتہائی نگہداشت یونٹ اور جنرل کوویڈ 19 وارڈز دونوں سے سطح اور ہوا کے نمونوں کا معائنہ کیا جہاں یہ بیماری ایک وبائی مرض بننے کے لیے نقشے پر پھیلنے سے پہلے پھیل چکی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ دونوں وارڈوں میں 19 فروری سے 2 مارچ کے درمیان مجموعی طور پر 24 مریض رکھے گئے تھے جب چین ابھی بھی مہلک وائرس کی لپیٹ میں تھا۔

ٹیم نے ایروسول ٹرانسمیشن کا مشاہدہ کیا، جب وائرس کے قطرے ٹھیک ہوجاتے ہیں تو وہ معطل ہوجاتے ہیں اور کئی گھنٹوں تک ہوا کے اندر موجود رہتے ہیں۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس نے دنیا بھر میں تباہی مچارکھی ہے اور ہزاروں افراد وائرس سے زندگی کی بازی ہار گئی تھیں جبکہ لاکھوں افراد وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں اور متعدد افراد اس سے صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔



install suchtv android app on google app store

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے