کورونا وائرس کی وجہ سے آ گئیں سبزیوں کی قیمتیں 10سال کی کم ترین سطح پر

کورونا وائرس کی وجہ سے آ گئیں سبزیوں کی قیمتیں 10سال کی کم ترین سطح پر


لاک ڈاؤن کی وجہ سے سبزیوں کی گھریلو اور کمرشل طلب میں غیرمعمولی کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے سبزی منڈی میں سبزیوں کی فروخت 70 فیصد تک کم ہوگئی اور سبزیوں کی قیمتیں 10 سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہیں۔

سبزی منڈی میں اچھی قیمت نہ ملنے کا تمام نقصان سبزی کے کاشت کاروں کو پہنچ رہا ہے جو اب منڈی کو سبزی کی سپلائی کے بجائے تیار فصلوں کو کھیتوں میں ہی تلف کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

سبزی منڈی میں سبزیوں کے بیوپاری بھی صورتحال سے پریشان ہیں تاہم شہر میں خوردہ سطح پر اب بھی سبزیاں مہنگے داموں فروخت کی جارہی ہیں اور سبزی منڈی کے مقابلے میں شہر کی دکانوں پر سبزیاں تین گنا زائد قیمت پر فروخت ہورہی ہیں۔

کراچی سبزی منڈی میں سبزیوں کے تھوک بیوپاری عرفان انڈس نے بتایا کہ سبزی منڈی میں بھنڈی 30 روپے کلو، ٹماٹر 8 روپے کلو، لوکی اور بیگن 10 روپے کلو، 200 روپے کلو فروخت ہونے والی مرچ 15 روپے کلو فروخت ہورہی ہے، مٹر 55 روپے کلو، پالک 5 روپے کی گڈی دھنیا پودینہ ایک روپے کی دو گڈیاں فروخت ہورہی ہیں۔

اسی طرح گوبھی 10سے 12روپے کلو، توری 15روپے کلو فروخت کی جارہی ہے۔ آلو کی تھوک قیمت 25 سے 28روپے کلو کی سطح پر آچکی ہے ایکسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے پیاز بھی 30 روپے کلو فروخت ہورہی ہے۔

مارکیٹ کمیٹی کے رکن سلیمان خواجہ کے مطابق اس صورتحال میں سبزیوں کے کاشت کار بھاری نقصان کا سامامنا کر رہے ہیں ٹماٹر کی فصل لگانے والے کاشت کاروں نے کھیتوں میں ہی تیار فصل ضایع کردی ہے کیونکہ ترسیل کی لاگت اٹھانے کے بعد منڈی میں 8 روپے کلو فروخت ہونے سے انہیں کوئی فائدہ نہیں الٹا کرایہ اپنی جیب سے دینا پڑرہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اضافی پیداوار کو اس وقت کولڈ اسٹوریج میں محفوظ کرکے فارمرز کو نقصان سے بچایا جاسکتا ہے لیکن سندھ میں اسٹوریج کی سہولت نہیں ہے اور کراچی میں اسٹوریج کی گنجائش پہلے ہی ختم ہوچکی ہے۔



install suchtv android app on google app store

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے