کورونا وائرس کی وجہ سے سماجی فاصلہ کب تک برقرار رکھا جاسکتا ہے؟ ماہرین نے بتا دیا

برطانیہ کے تحقیقی ماہرین نے کہا ہے کہ اگر کورونا کا علاج دریافت نہ ہوا تو سماجی فاصلہ آئندہ کئی سال تک جاری رہ سکتا ہے۔


برطانیہ کے تحقیقی ماہرین نے کہا ہے کہ اگر کورونا کا علاج دریافت نہ ہوا تو سماجی فاصلہ آئندہ کئی سال تک جاری رہ سکتا ہے۔

برطانوی ماہرین نے کرونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے تحقیق کی جس میں احتیاطی تدابیر اور حکومتی جانب سے نافذ کیے جانے والے حفاظتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

ماہرین نے جائزے کے بعد رپورٹ مرتب کی جس میں کہا گیا ہے کہ کروناکاعلاج دریافت نہ ہوا تو سماجی فاصلہ2022 تک لاگو رکھاجاسکتا ہے کیونکہ کرونا وائرس 2025 میں دوبارہ جنم لے سکتا ہے۔

تحقیقی ماہرین کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کی پابندی جلدی ہٹانے سے اسپتالوں پر بوجھ پڑ سکتا ہے، وائرس کی مدت کےصحیح تعین کیلئےمزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا علاج کے لیے مناسب اقدامات اور انتہائی نگہداشت وارڈ میں توسیع بہت ضروری ہے، وائرس اگر ختم بھی ہوجائے تو اس کی 2024 تک نگرانی بہت ضروری ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل عالمی ادارہ صحت بھی تمام ممالک کو متنبہ کرچکا ہے کہ وہ لاک ڈاؤن کی پابندیاں اٹھانے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہ کریں بصورت دیگر صورت حال بہت زیادہ خراب ہوجائے گی۔

واضح رہے کہ طبی ماہرین نے کرونا سے بچنے کے لیے سوشل ڈیسٹنسنگ (سماجی دوری) اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے جس سے مراد دو لوگوں کے درمیان کم از کم فاصلہ 6 فٹ ہونا ضروری ہے۔



install suchtv android app on google app store

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے