کیا واقعی کوروناوائرس 2013میں سامنے آیاتھا؟ عالمی ادارہ صحت کا ایسا جواب کہ پوری دنیا حیران رہ گئی

کیا واقعی کوروناوائرس 2013میں سامنے آیاتھا؟ عالمی ادارہ صحت کا ایسا جواب کہ پوری دنیا حیران رہ گئی


کیا واقعی کوروناوائرس 2013میں سامنے آیاتھا؟ عالمی ادارہ صحت کا ایسا جواب کہ …

نیویارک(ڈیلی پاکستان آن لائن)عالمی ادارہ صحت کاکہنا ہے کہ نوول کوروناوائرس ماضی میں بھی سامنے آچکا ہے، عالمی ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق اپریل 2012 سے مئی 2013تک کورونا وائرس کے چالیس کیسز کی مختلف لیبارٹریز سے تصدیق ہوئی تھی اور یہ کیسز مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں سامنے آئے تھے جن میں اردن، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر شامل ہیں۔  رپورٹ کے مطابق ان چالیس کیسز میں سے بیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ کیسز فرانس ، جرمنی اور برطانیہ میں بھی رپورٹ ہوئے تھے اور ان تمام کیسز کا مشرق وسطیٰ سے بالواسطہ یا بلاواسطہ سے تعلق تھا۔فرانس اور جرمنی میں متاثر ہونے والے افراد نے خود کبھی مشرق وسطیٰ کا سفر نہیں کیاتھا تاہم ان کے قرابت داروہاں سے آئے تھے جن سے انہیں بھی یہ مرض لاحق ہوگیا۔

ان دنوں میں کورونا وائرس کا آخری کیس دس مئی2013کو سامنے آیا تھا۔متاثرہونے والے انتالیس افراد کی تفصیلات کے مطابق اکتیس مرد تھے اور ان کی عمریں 24 سے 94سال تک تھیں۔ان تمام کیسز کی لیبارٹریز سے تصدیق ہوئی تھی اور مریضوں کو ہسپتال بھی منتقل ہونا پڑا۔بہت سے مریضوں میں یہی علامات بھی ظاہر ہوئیں جو ابھی ہیں تاہم اس وقت کچھ لوگوں کو ڈائیریا کی شکایات بھی ہوئیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایک مریض ایسا بھی تھا جس میں مذکورہ علامات نہیں تھیں تاہم بخار، جسم میں درد اور دست جیسی شکایا ت تھیں، اس کا نمونیہ بھی اتفاقی طور پر ریڈیوگرافی کے دوران سامنے آیاتھا۔عالمی ادارے کے مطابق ان چالیس میں سے بیس مریض ہلاک ہوگئے تھے۔چھ اپریل کو سعودی عرب کے الحصة ریجن میں 16مرد اور پانچ خواتین میں اس وائرس کی موجودگی تصدیق ہوئی تھی۔ان میں سے نو کچھ ہی دنوں میں انتقال کرگئے اور چھ تادیر بیمار رہے۔

عالمی ادارے کے مطابق مذکورہ کیسز کے بارے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ان لوگوں کا جانوروں سے یا تو واسطہ تھا ہی نہیں یا پھر بے حد کم تھا۔آٹھ مئی دوہزار تیرہ کو فرانس میں پہلا کیس رپورٹ ہوا،متاثرہ شخص یو اے ای میں نو دن رہ کرآیا تھا جبکہ دوسرا کیس بارہ مئی کو رپورٹ ہوا۔یہ شخص کبھی یو اے ای نہیں گیا تھاتاہم اس نے متاثرہ مریض کے ساتھ کمرہ شیئر کیاتھا۔

عالمی ادارے کے مطابق اس وائرس کے بارے میں یہ تصور کیاجارہا تھا کہ یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے تاہم اب یہ پتہ چل انسانوں سے انسانوں کے درمیان منتقلی کے واقعات یا تو ہسپتال میں پیش آئے یا پھر انتہائی قریبی رشتہ داروں میں عموما کمیونٹی میں اس کا پھیلاوسامنے نہیں آیا ہے۔عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ رکن ممالک کو چاہئے کہ اگر ان کے پاس اس طرح کے کوئی بھی ہیلتھ کیسز ماضی میں رپورٹ ہوئے ہوں تو وہ ان کا ڈیٹا ڈبلیو ایچ او کو بھجوائیں اور اس کے علاج معالجہ کیلئے اٹھائے گئے اقدامات بھی پیش کریں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /تعلیم و صحت



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے