کیا کورونا وائرس سگریٹ پینے والوں کو نشانہ نہیں بناتا؟ شہری کے دعوے کے بعد اب حیران کن اعدادوشمار سامنے آگئے

کیا کورونا وائرس سگریٹ پینے والوں کو نشانہ نہیں بناتا؟ شہری کے دعوے کے بعد اب حیران کن اعدادوشمار سامنے آگئے


کیا کورونا وائرس سگریٹ پینے والوں کو نشانہ نہیں بناتا؟ شہری کے دعوے کے بعد اب …

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کہا جا رہا تھا کہ کورونا وائرس سگریٹ نوشوں کے لیے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے لیکن معروف برطانوی مصور ڈیوڈ ہوکنے نے گزشتہ دنوں ایک حیران کن دعویٰ کیا کہ سگریٹ نوشی کورونا وائرس سے بچاتی ہے۔ اب برطانیہ اور امریکہ میں کورونا وائرس کے مریضوں کے متعلق اعدادوشمار میں بھی حیران کن طور پر ڈیوڈ ہوکنے کے اس دعوے کی تصدیق ہو گئی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق اگرچہ برطانیہ اور امریکہ سمیت دنیا بھر میں طبی ادارے لوگوں کو صحت کی حفاظت کے لیے سگریٹ نوشی ترک کرنے کی ہدایات دیتے رہتے ہیں لیکن برطانیہ اور امریکہ میں کورونا وائرس کے مریضوں میں سگریٹ نوشوں کی تعداد کم سامنے آ رہی ہے۔ ایسے مریض جنہیں علامات شدید ہونے پر ہسپتال پہنچایا گیا، ان میں سگریٹ نوشوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔

ڈیوڈ ہوکنے نے کہا تھا کہ ”کیا سگریٹ نوش افراد میں اس وائرس کے خلاف مدافعت پیدا نہیں ہو گئی؟ جو اعدادوشمار سامنے آ رہے ہیں، ان سے مجھے تو ایسا ہی لگ رہا ہے۔“اس وقت لوگوں نے ان کی بات کو ہنسی میں اڑا دیا لیکن اب جوں جوں اعدادوشمار سامنے آ رہے ہیں طبی ماہرین سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ یونیورسٹی کالج لندن کے پروفیسر فرانکوئس بیلوکس کا کہنا ہے کہ ”ڈیوڈ ہوکنے کا دعویٰ حیران کن مگر انتہائی مضبوط ہے۔ کئی شواہد ایسے سامنے آ رہے ہیں جن سے لگ رہا ہے کہ یہ بات درست ہے۔ امریکہ اور برطانیہ سے قبل چین سے بھی ایسے ہی اعدادوشمار سامنے آ چکے ہیں۔ وہاں کورونا وائرس کے ہسپتال تک پہنچنے والے مریضوں میں سگریٹ نوشوں اور سگریٹ نہ پینے والوں کی شرح 6.5فیصد اور 26.6فیصد رہی۔ جو لوگ سگریٹ پیتے تھے اور انہیں وائرس لاحق ہوا، ان میں سے صرف 6.5کی حالت اس قدر تشویشناک ہوئی کہ انہیں ہسپتال میں رکھنا پڑا جبکہ سگریٹ نہ پینے والوں میں سے 26.6فیصد کی حالت اس قدر بگڑی کہ وہ ہسپتال تک جا پہنچے۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کا جواب تاحال کوئی نہیں جانتا۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹستعلیم و صحت



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے