گجرات میں کورونا وائرس کی روک تھام کیسے ممکن ہوئی ؟ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر رانی حفصہ کنول نے حیران کن کہانی بیان کر دی

mobile logo


گجرات میں کورونا وائرس کی روک تھام کیسے ممکن ہوئی ؟ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر …

گجرات( مرزا نعیم الرحمان )گجرات جہاں ملک کا ایک بڑا سیاسی جنکشن تصور کیا جاتا ہے،وہاں اس ضلع کے رہائشی لاکھوں نوجوان اورفیملیز بیرون ملک بسلسلہ روزگارمقیم ہیں جبکہ گجرات کی تحصیل کھاریاں جسےپاکستان کا سوئزر لینڈ قرار دیا جاتا ہے کہ گھر کا ہر  دوسرا فرد  یورپ میں مقیم ہے،اسی طرح گجرات کی مختلف تحصیلوں کےلوگ جن میں سرائے عالمگیر کے لوگ زیادہ تر برطانیہ، تحصیل گجرات کے زیادہ تر لوگ سپین، اٹلی ، جرمنی اور فرانس میں مقیم ہیں، میں کورونا وائرس کی وباءشروع ہوتے ہی یکدم شرح بلند ہو گئی۔ ضلعی انتظامیہ کے علاوہ پنجاب حکومت سخت تشویش کا شکار تھی اور بار بار ضلعی انتظامیہ کو یہ پیغام دیا جا رہا تھا کہ گجرات کو پنجاب کا کورونا کے حوالے سے دوسرا بڑا ضلع نہ بننے دیں۔

ڈپٹی کمشنر گجرات ڈاکٹرخرم شہزاد اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر رانی حفصہ کنول نے پنجاب حکومت کی طرف سے دیے گئے چیلنج کو خندہ پیشانی سے قبول کیا اور اپنا دن کا سکون رات کا چین کورونا وائرس کے مریضوں کی دیکھ بھال اور حفاظتی اقدامات کے لیے وقف کر دیا جس کے نتائج نکلنا شرو ع ہوئے تو پندرہ یوم کے اندر اندر یکدم بلندی کو چھونے والی کورونا وائرس کی لہر کا نہ صرف خاتمہ ہوا بلکہ اس وقت عزیز بھٹی شہید ہسپتال سے سینکڑوں کورونا وائرس کے مریض صحت یاب ہو کر گھر جا چکے ہیں۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر گجرات ڈاکٹر رانی حفصہ کنول جو خود بھی ایک ڈاکٹر اور اعلی انتظامی آفیسر ہیں کو اس حوالے سے انتہائی خوش قسمت تصور کیا جاتا ہے کہ ان کے باس ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر خرم شہزاد بھی ڈاکٹر ہیں دونوں سٹیک ہولڈروں نے ملکر یہ فیصلہ کیا کہ وہ کورونا وائرس کو گجرات میں ہر گز پھیلنے کا موقع نہیں دیں گے اور عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہوئے اس کا خاتمہ بھی کریں گے۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر رانی حفصہ کنول سے اس سلسلہ میں سوال کیا گیا کہ حکومت پنجاب نے مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو گجرات کا دورہ کرنے اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے کورونا پر قابو پانے کی مہم کی کامیابی کا جائزہ لینے کے لیے بجھوایا گیا ،انہوں نے کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں کس طرح کامیابیاں حاصل کیں؟ اس وقت جب کہ گندم کی کٹائی کا سیزن اپنے عروج پر ہے تو دوسری طرف کورونا کی وجہ سے ملک میں لاک ڈاؤن ، بھوک اور افلاس کی وجہ سے غربت کی شرح میں بے انتہا اضافہ ہو رہا ہے ۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر رانی حفصہ کنول نے کہا کہ بلاشبہ پورے صوبے میں انتظامیہ حکومت کے ویژن کے مطابق کورونا وائرس کے خلاف برسر پیکار ہے مگر گجرات کے عوام کی خوش قسمتی ہے کہ کورونا کی وباءکے آغاز پر ہی ہم دونوں ڈاکٹرز جو ضلعی انتظامیہ کے سٹیک ہولڈرز بھی ہیں نے فیصلہ کیا کہ عوام کے لیے پریشانی کا سبب بننے والا کوئی ایسا لاک ڈاؤن نہ کیا جائے بلکہ فوری طور پر مشکوک افراد کو قرنطینہ سنٹر پہنچا کر انکی دیکھ بھال کی جائے اور جو لوگ یورپ اور دیگر ممالک سے گجرات آئے ہیں انہیں فوری طور پر مقامی ہسپتال پہنچا دیا جائے ،ہم نے گلی گلی اور کوچہ کوچہ چھان مارا اور ایسے لوگوں کی تلاش میں رہے جو بیرون ملک سے حال میں ہی واپس آئے ہیں، اللہ کا کرنا ہو ہمیں بے شمار ایسے افراد مل گئے جو چندیوم کے دوران یورپ سے گجرا ت پہنچے،ہم نے فور ی پر انہیں علیحدہ کر لیا، یہی ہماری کامیابی تھی کہ ہم نے کورونا وائرس کے مریضوں کو تلاش کیا بلکہ علاج معالجہ کی سہولیات دینے کے لیے ہسپتال داخل کرا دیا گیا، کورونا وائرس کا ایک مریض درجنوں افراد کے لیے موت کا پیغام بن سکتا ہے لہذا ہم نے اس فارمولے کو مدنظر رکھا ۔

ڈاکٹر رانی حفصہ کنول نے اس سلسلہ میں بتایا کہ حکومت پنجاب کی طرف سے لاک ڈاؤن کے علاقوں کے لیے مفت خوراک کا بھی اہتمام کیا گیا جنہیں ضلعی انتظامیہ نے احسن طریقے سے متاثرین تک پہنچایا ۔انہوں نے کہا کہ گجرات کے مخیر حضرات نے عین اسلامی اصولوں کے مطابق انصار او ر مہاجر کی مثال زندہ کر دی اور لوگوں نے مستحق افراد میں وسیع پیمانے پر نہ صرف راشن تقسیم کیا بلکہ رات کے اندھیروں میں لوگوں کے گھروں میں رقم بھی پہنچاتے رہے، وہ ان تنظیموں اور لوگوں کی عظمت کو سلام پیش کرتی ہیں جنہوں نے کورونا وائرس کی وبا کے دوران عوام کی بے شمار خدمت کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع گجرات میں 60سے زائد گھروں کو کورونا وائرس کا شکار افراد کی موجودگی کی وجہ سے قرنطینہ سنٹر کا درجہ دیا گیا اور حیران کن امر یہ ہے کہ تمام گھروں سے اب پہرے اٹھا لیے گئے ہیں اور تمام مریض صحت یاب ہو کر معمول کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گجرات محنت کشوں کا ضلع ہے اور گجرات کے عوام کے اندر قوت مدافعت کی کمی نہیں ،یہی وجہ ہے کہ کورونا پاکستان میں نامراد ہو کر اب ایسے علاقوں میں تباہی مچا رہا ہے جہاں کے لوگ نازک مزاج ہیں ۔انہوں نے کہا کہ خدا وند کریم نے نبی کریمﷺ کو رحمت العالمین بنا کر بھیجا اور کورونا وائرس دنیا بھر کے لیے خداوند کریم کی طرف سے ایک واضح پیغام ہے کہ بلاشبہ دنیا میں ایسے ممالک کی بھی کوئی کمی نہیں جو اپنے آپ کو سپر پاور سمجھتے ہیں مگر ایک کورونا جسکا علاج ابھی تک دریافت نہیں ہو چکا اور لاکھوں افراد اسکی بھینٹ چڑھ چکے ہیں نے انہیں بے بس کر کے رکھ دیا ہے، بلاشبہ کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے، وہی خدا ہے اور وہی سپر پاور ہے باقی سب اسکے مختاج ہیں ،ایک کورونانے پوری دنیا میں تباہی مچا دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت پنجاب کا اعزاز ہے کہ اس نے کورونا پر قابو پانے کے لیے دورس منصوبہ جات شروع کیے جس سے انسانیت کی فلاح اور کورونا کے مریضوں کی جلد صحت یابی کے لیے موثر اقدامات کیے گئے، ضلعی انتظامیہ کی طرف سے گلی محلوں ، سڑکوں ‘ بازاروں ، مساجد سمیت دیگر مقامات پر کلورین ملا اینٹی انفکیشن سپرے کرایا جا رہا ہے جس سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام  میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپرے کے عمل کو انتہائی موثر بنایا گیا ہے ،حکومت پنجاب کی طرف سے طے شدہ ایس او پیز پر بھی سختی کے ساتھ عمل درآمد کرایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے خلاف متحد ہو کر جدوجہد جاری ہے ،ہم جلد سوفیصد کورونا وائر س سے نجات حاصل کر لیں گے ۔

مزید :

علاقائیپنجابگجراتکورونا وائرس



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے