گھر بیٹھے انٹرنیٹ کی رفتار تیز کیسے کرسکتے ہیں؟ آپ بھی ماہرین سے جانئے

گھر بیٹھے انٹرنیٹ کی رفتار تیز کیسے کرسکتے ہیں؟ آپ بھی ماہرین سے جانئے


گھر بیٹھے انٹرنیٹ کی رفتار تیز کیسے کرسکتے ہیں؟ آپ بھی ماہرین سے جانئے

کنبرا(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کی وجہ سے مختلف ممالک میں لاک ڈاﺅن ہے اور لوگ دفاتر جانے کی بجائے گھروں میں بیٹھ کر کام کر رہے ہیں۔ ایسے میں ان ممالک میں انٹرنیٹ کے استعمال میں بھی غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کی وجہ سے انٹرنیٹ کی رفتار کم ہونے کا مسئلہ بڑھ گیا ہے۔ اب ماہرین نے گھر بیٹھے انٹرنیٹ کی رفتار بڑھانے کے کچھ حربے بتا دیئے ہیں۔ آسٹریلوی ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے آسٹریلیا میں انٹرنیٹ کا استعمال 70سے 80فیصد بڑھ گیا ہے، جس سے انٹرنیٹ سروس پروئیڈرز پر بوجھ پر رہا ہے۔ اگر آپ کو بھی کم سپیڈ کا مسئلہ درپیش ہے تو پانچ کام ایسے ہیں جنہیں کرنے سے آپ کا یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ پہلا کام یہ کہ ’وائی فائی بلاکرز‘ کی پہچان کریں۔ وائی فائی راﺅٹرز اس وقت سب سے طاقتور سگنلز دیتے ہیں جب آپ کے کمپیوٹر اور راﺅٹر کے درمیان کوئی رکاوٹ نہ ہو لیکن اکثر لوگ کیا کرتے ہیں کہ راﺅٹرز کو ٹی وی کے پیچھے یا کسی الماری وغیرہ میں رکھ دیتے ہیں جس سے سگنلز کمزور ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ سب سے پہلے اگر کوئی ایسی رکاوٹ ہے تو اسے دور کریں۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اپ لوڈنگ کم سے کم کریں کیونکہ اس سے سروس پروائیڈر کے سسٹم پر بوجھ پڑتا ہے اور سپیڈ کم ہو جاتی ہے۔ تیسرا طریقہ یہ ہے کہ اگر آپ کی انٹرنیٹ سپیڈ پھر بھی کم آ رہی ہے تو ایکسٹینڈر (Extender)خریدنے پر غورکریں۔ اگرچہ ایکسٹینڈر بہت مہنگا ہوتا ہے لیکن یہ وائی فائی راﺅٹر سے کمزور سگنلز لے کر انہیں دوبارہ براڈ کاسٹ کرتا اور طاقتور بنا دیتا ہے۔ چوتھا طریقہ یہ ہے کہ اپنے راﺅٹر کے فرم ویئر کو اپ ڈیٹ کریں۔یہ کمپنی سے انسٹال ہو کر آتا ہے جسے اکثر لوگ بعد میں اپ ڈیٹ نہیں کرتے۔ یہ بھی انٹرنیٹ کی سپیڈ کم آنے کی ایک وجہ ہوتا ہے۔پانچواں طریقہ یہ ہے کہ جب آپ کی انٹرنیٹ سپیڈ کم آ رہی ہو تو راﺅٹر یا کنکشن باکس کو 30سیکنڈز کے لیے بند کرکے دوبارہ آن کریں۔ اس مقصد کے لیے راﺅٹر کو آف کرنا کافی نہیں بلکہ اس کا سوئچ نکال دیں۔ راﺅٹرز کے کیپیسٹرز (Capacitors)کرنٹ سٹور کرتے ہیں۔ ان تیس سیکنڈز میں ان سے کرنٹ ڈسچارج ہو جائے گا اورتبھی راﺅٹر مکمل شٹ ڈاﺅن ہو گا۔

مزید : سائنس اور ٹیکنالوجی



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے