”ہم نیوزی لینڈ میں تھے اور ہمارے کئی کھلاڑی زخمی ہو گئے، جاوید میانداد ہمارے کوچ تھے، وہ میرے پاس آئے اور کہا۔۔۔“ انضمام الحق نے انتہائی دلچسپ انکشاف کر دیا

”ہم نیوزی لینڈ میں تھے اور ہمارے کئی کھلاڑی زخمی ہو گئے، جاوید میانداد ہمارے کوچ تھے، وہ میرے پاس آئے اور کہا۔۔۔“ انضمام الحق نے انتہائی دلچسپ انکشاف کر دیا


”ہم نیوزی لینڈ میں تھے اور ہمارے کئی کھلاڑی زخمی ہو گئے، جاوید میانداد ہمارے …

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز سابق کپتان انضمام الحق نے لیجنڈری بلے باز جاوید میانداد کی قومی ٹیم کی کوچنگ کے دوران پیش آنے والا ایسا دلچسپ انکشاف کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق انضمام الحق نے بتایا کہ ”جاوید میانداد عمر کے کسی بھی حصے میں بیٹنگ کرنے سے شرمائے نہیں، حتیٰ کہ اگر آج بھی انہیں کوئی بیٹنگ کرنے کو کہے گا کہ وہ ہاں میں جواب دیں گے۔ نیوزی لینڈ کیخلاف سیریز کے دوران میں قومی ٹیم کا کپتان تھا اور جاوید میانداد کوچنگ کی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے جبکہ مارے کئی کھلاڑی زخمی ہو چکے تھے۔ نیوزی لینڈ بہت دور ہے اس لئے متبادل کھلاڑیوں کا انتظام کرنا بھی مشکل تھا۔ جب میں نیٹ پریکٹس کر کے ڈریسنگ روم میں واپس آیا تو جاوید میانداد میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اگر آپ کے پاس بلے باز ناکافی ہیں تو ایک بیٹسمین کھیلنے کیلئے بالکل تیار ہے، میں نے پوچھا کہ وہ کون ہے تو انہوں نے جواب دیا، میں۔ یہ سن کر میں نے کہا کہ جاوید بھائی آپ نے وکٹ کی کنڈیشن دیکھ لی ہے اور آپ کو کھیلے ہوئے بھی کافی عرصہ ہو چکا ہے تو انہوں نے کہا کہ میرے بارے میں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، میں کھیل لوں گا۔ میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ کھیلنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو پہلے نیٹ میں بیٹنگ کرنا ہو گی اور اس سے پہلے کہ میں پیڈز وغیرہ اتارتا، وہ بیٹنگ کیلئے تیار ہو چکے تھے، انہیں اپنی بیٹنگ پر بہت زیادہ اعتماد تھا۔“

انضمام الحق نے کہا کہ ”جب میں کرکٹ کھیلتا تھا تو جاوید میانداد اس وقت ہر نوجوان کے ہیرو تھے اور بیٹنگ کے لحاظ سے دیکھا جائے تو وہ پاکستان کے بہترین بلے باز تھے۔ میں بطور کھلاڑی ان کیساتھ چار سے پانچ سال کھیلا ہوں اور پھر بطور کوچ بھی ان کا ساتھ رہا، انہیں خود پر بہت زیادہ یقین تھا اور یہی وجہ ہے کہ وہ کامیاب ترین بلے باز بنے۔ میری ایک مرتبہ مشتاق محمد سے بات چیت ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ہم دورہ آسٹریلیا پر تھے اور جاوید میانداد نوجوان تھے۔ اس دورے کے دوران ہر کوئی اوپر کے نمبروں پر بیٹنگ کرنے سے ڈرتا تھا لیکن جاوید میانداد ہمیشہ میدان میں جا کر بیٹنگ کرنے کیلئے تیار رہتے تھے اور بہت نڈر سوچ کے حامل تھے، وہ دنیا کے بہترین باﺅلرز پر جملے کستے تھے، عموماً ایسا ہوتا ہے کہ باﺅلرز حریف بلے باز کو آﺅٹ کرنے کیلئے سلیجنگ کا سہارا لیتے ہیں لیکن میانداد سب الٹا کر دیتے تھے، وہ بڑے میچ کے کھلاڑی تھے اور بہت سے مواقعوں پر انہوں نے یہ ثابت بھی کیا۔“

مزید : کھیل



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے